17 جنوری 2011 - 20:30

ہنگو سے ڈکیت گروہ کے 4 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں جنہیں قتل کرنے کیذمہ داری قبول کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان نے خبردار کیا ہے مقتولین کی نماز جنازہ میں کوئی شرکت نہ کرے / طالبان کا یہ اقدام ایک دینی یا سماجی اقدام نہیں ہے بلکہ انھوں نے اپنے حریف گروہ کا صفایا کردیا ہے۔

ابنا: پولیس ذرائع کے مطابق ہنگوکے علاقے سرکدانہ سے برآمد ہونے والی چاروں لاشوں کے ساتھ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے خطوط چھوڑے گئے ہیں جن میں تحریر ہے کہ قتل کیئے جانے والے چاروں افراد کا گروہ اغوا کار تھا اس لیئے ان کو قتل کیا گیا ہے۔۔ خطوط میں خبردار کیا گیا ہے کہ کوئی بھی ان افراد کی نماز جنازہ نہ پڑھے جبکہ لاشوں کو ہنگو پولیس نے تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کرنے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چاروں مقتولین کا تعلق ہنگوسٹی سے ہے۔ ہلاک شدگان میں انور، غازی، فاروق اور شرابی نامی افراد شامل ہیں جبکہ لاشوں کے ورثا کو بھی اطلاع کردی ہے۔ 

روزنامہ جنگ

طالبان عرصہ دراز سے علاقے میں قتل و غارت، چوری، ڈکیتی، رہزنی کے ساتھ ساتھ اغوا برائے تاوان جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہیں اور عجیب یہ ہے کہ حکومتی اہلکار اغوا ہونے والے افراد کی رہائی کے لئے طالبان اغواکاروں سے مذاکرات کرتے ہیں اور تاوان کی رقم طے کرتے ہیں اور مغوی افراد کے گھر والوں سے رقم لے کر اغوا کاروں کے حوالے کرتے ہیں ـ البتہ کمیشن بھی ضرور لیتے ہونگے ـ اور پھر مغویوں کو اپنی تحویل میں لے کر ان کے علاقوں تک پہنچادیتے ہیں لیکن اب بظاہر ایک اور گروہ بھی اس پر منفعت کاروبار میں کود پڑا ہے تو طالبان نے انہیں بھی پکڑ لیا ہے اور پھر انہیں قتل کرکے اسلام کے طالبانی اعزازات میں اضافہ کرکے ان کی نماز جنازہ بھی ممنوع قرار دی ہے۔ چنانچہ طالبان کا یہ اقدام ایک دینی یا سماجی اقدام نہیں ہے بلکہ انھوں نے اپنے حریف گروہ کا صفایا کردیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110